خبر رساں ایجنسی ابنا کے مطابق، شیخ حمید جلالہ نے گزشتہ روز دارالسلام کے علاقے کیگوگو پستی میں واقع مسجد غدیر میں نمازِ جمعہ کے خطبے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ معاشرے کی اصلاح اور آنے والی نسلوں کی بہتر تربیت کا آغاز مضبوط اور صالح خاندانوں سے ہوتا ہے۔
انہوں نے اپنے خطاب کا آغاز سورۂ آل عمران کی آیت 159 کی تلاوت سے کیا، جس میں نرمی، مہربانی، درگزر اور مشاورت کی اہمیت بیان کی گئی ہے۔
شیخ جلالہ نے کہا کہ یہی وہ اخلاقی صفات ہیں جنہوں نے رسول اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی شخصیت کو لوگوں کے دلوں میں محبوب اور قابلِ قبول بنایا۔ ان کے مطابق رحمت اور نرم خوئی صرف الفاظ نہیں بلکہ بہترین تربیت اور اعلیٰ اخلاق کا عملی اظہار بھی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صالح اولاد ایک اخلاقی اور مضبوط معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے۔ جب خاندان مضبوط ہوں گے تو معاشرہ بھی مستحکم ہوگا اور ملک میں امن و استحکام کی راہ ہموار ہوگی۔
شیخ حمید جلالہ نے شادی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صالح نسل کی تربیت کے لیے درست شریکِ حیات کا انتخاب انتہائی اہم ہے۔ نوجوانوں کو شادی کا فیصلہ کرتے وقت صرف ظاہری خوبصورتی یا دیگر دنیاوی پہلوؤں کو نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ اس خاندان کے ماحول، تربیت، اخلاق اور کردار پر بھی توجہ دینی چاہیے جہاں لڑکی کی پرورش ہوئی ہو۔
انہوں نے خبردار کیا کہ بعض خاندانی ماحول اور نامناسب رویوں کے اثرات ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہو سکتے ہیں۔ اس لیے شادی سے پہلے ان پہلوؤں کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ ان کے مطابق ایسے اثرات صرف جسمانی یا مادی مسائل تک محدود نہیں ہوتے بلکہ اخلاقی اور روحانی پہلو بھی رکھتے ہیں۔
شیخ جلالہ نے دین داری کو شریکِ حیات کے انتخاب کا بنیادی معیار قرار دیتے ہوئے کہا کہ دین اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے اور جو گھرانہ دینی تعلیمات اور اسلامی اصولوں پر قائم ہو، اس میں خیر و برکت کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ رسول اکرم ﷺ نے بھی شریکِ حیات کے انتخاب میں دین داری کو خصوصی اہمیت دینے کی تعلیم دی ہے۔
اپنے خطاب میں انہوں نے معاشرے میں بڑھتے ہوئے اخلاقی چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے ہم جنس پرستی کے مسئلے پر بھی تشویش ظاہر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں ایسے موضوعات کا منبر پر ذکر کرنا بھی باعثِ شرم سمجھا جاتا تھا، لیکن آج بعض حلقوں میں انہیں معمول کی بات کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے سنجیدہ اور فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔
شریکِ حیات کے انتخاب کے دیگر معیارات پر روشنی ڈالتے ہوئے شیخ حمید جلالہ نے عقل و فہم اور معاملہ فہمی کو بھی ضروری قرار دیا۔ ان کے مطابق ایک سمجھ دار اور باشعور خاتون بچوں کی بہتر تربیت، گھریلو معاملات کی ذمہ داری اور زندگی کے مشکل مراحل میں شوہر کا ساتھ دینے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
انہوں نے میاں بیوی کے درمیان ثقافتی ہم آہنگی کی اہمیت پر بھی زور دیا اور کہا کہ مختلف ثقافتی پس منظر رکھنے والے افراد کے درمیان بعض اوقات روزمرہ زندگی کے معاملات میں اختلافات پیدا ہو سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک ایسا عمل جو بیوی کے نزدیک معمول کی بات ہو، شوہر کے لیے ناقابلِ قبول ہو سکتا ہے، یا اس کے برعکس۔ ایسی صورت حال غلط فہمیوں، اختلافات اور ازدواجی زندگی میں کشیدگی کا سبب بن سکتی ہے۔
شیخ حمید جلالہ نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ شادی جیسے اہم فیصلے میں جلد بازی کے بجائے دین داری، اخلاق، خاندانی تربیت، عقل و شعور اور ثقافتی ہم آہنگی کو ضرور مدنظر رکھا جائے، کیونکہ مضبوط خاندان ہی ایک صالح اور مستحکم معاشرے کی بنیاد ہوتے ہیں۔
آپ کا تبصرہ